ٹی ڈی ایف میگنفی سائنس سینٹر

سائنسی خواندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے منصوبوں کی کامیابی کے بعد دی داؤد فاؤنڈیشن (ٹی ڈی ایف) نے میگنفی سائنس سینٹر (ایم ایس سی) قائم کیا – پاکستان کا یہ پہلا جدید اور انٹرایکٹو سائنس سینٹر ہر عمر اور پسِ منظر کے فرد کو سیکھنے کا عملی تجربہ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ سینٹر کھیل کھیل میں تعلیم دے کر، سائنس میں دلچسپی پیدا کر کے اور عوام میں سائنسی اصولوں اور سائنسی سوچ کو پروان چڑھا کر انہیں با اختیار بنانے کے لیے ایک جامع سائنسی مرکز کی حیثیت سے کام کرے گا۔ ایم ایس سی معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کو غیر رسمی اور دلچسپ انداز میں سائنسی تحقیق میں شامل ہونے کا موقع دے گا اور اس عمل کے دوران انہیں اپنی تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی سہولت بھی دے گا۔

ملک کے مالیاتی مرکز کراچی میں واقع میگنفی سائنس سینٹر چار منزلوں پر مشتمل ہے، جس میں سے ہر منزل مختلف سائنسی موضوع اور تصورات کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس میں کھیل کود کی سرگرمیوں پر مشتمل ایک سائنس گارڈن بھی موجود ہے۔ مرطوب علاقوں کے تمر کے جنگلات کا ماحولی نظام بھی اس سینٹر کے مرکزی ایوان میں نصب کیا گیا ہے۔

یہ خاص طور پر تیار کردہ اور ڈیزائن کیا گیا انفراسٹرکچر مستقل اور عارضی انٹرایکٹو سائنس نمائشوں ، نمائشوں ، شوز اور تعلیمی پروگراموں کی میزبانی کرے گا۔ ایم ایس سی میں شامل تمام موضوعات مقامی اسکول کے نصاب کے مطابق ہیں ، سائنس کو روزمرہ کی زندگی سے متعلق اور حقیقی زندگی کے مسائل پر لاگو کرتے ہیں۔ ایم ایس سی دیسی سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی فروغ دے گی جس میں منفرد پاکستانی نمائشیں پیش کی جائیں گی جو مقامی کمیونٹیز کی طرف سے اختیار کردہ سائنسی نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہیں۔

MSC ایک پری انجینئرڈ بلڈنگ (PEB) ہے جو تقریبا 79 79،568 مربع فٹ رقبے پر محیط ہے۔ اسے شہاب غنی اور ایسوسی ایٹس کی پرنسپل آرکیٹیکٹ مدیحہ غنی نے ڈیزائن کیا ہے۔ ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے ، عمارت میں 116 کلو واٹ شمسی توانائی پیدا کرنے والے سولر پینلز نیز بارش اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ کا نظام نصب کیا گیا ہے۔

 

TDF is registered under Societies Registration Act, 1860. It is also certified by Pakistan Centre for Philanthropy (PCP) and maintains the status of Not-for-Profit Organization (NPO) under sub-clause (c) of clause (36) of section 2 of the Income Tax Ordinance, 2001.