سائنسی خواندگی کی ضرورت

پاکستان 2019ء کے گلوبل انوویشن انڈیکس کے مطابق 129 ممالک میں 105 ویں نمبر پر ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں، ایک ہمارے اداروں میں سائنس کی تعلیم کے ناقص معیارات اور دوسرا سائنس و ترقی پر کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) کا بہت کم حصہ استعمال ہونا۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی میں آنے والی جدت پاکستان میں بھی بخوبی محسوس کی گئی ہے، جس کے ساتھ ٹیکنالوجی، جدت اور معیاری تعلیم میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

ملک کے مالیاتی اور صنعتی مرکز کی حیثیت سے کراچی کو اپنے نوجوانوں کو بہتر تعلیم، خاص طور پر ایس ٹی ای ایم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) کے شعبوں کالج کی سطح کی پیشہ ورانہ تعلیم کی حوصلہ افزائی کی سخت ضرورت ہے۔

پاکستان میں سائنس کی تعلیم کی مایوس کُن صورت حال کو دیکھتے ہوئے دی داؤد فاؤنڈیشن (ٹی ڈی ایف) ملک کی سب سے بڑی سائنسی نمائشوں کے انعقاد اور بچوں کے لیے پاکستان کے پہلے سائنس اسٹوڈیو – ٹی ڈی ایف میگنفی سائنس چلڈرنز اسٹوڈیو کے قیام میں معاون و مددگار بنا۔